اک کرب مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیںمقتل میں ہیں جینے کی دعا دیں تو کسے دیںپتھر ہیں سبھی لوگ کریں بات تو کس سےاس شہر خموشاں میں صدا دیں تو کسے دیں
ہے کون کہ جو خود کو ہی جلتا ہوا دیکھےسب ہاتھ ہیں کاغذ کے دیا دیں تو کسے دیں
سب لوگ سوالی ہیں سبھی جسم برہنہاور پاس ہے بس ایک ردا دیں تو کسے دیں
جب ہاتھ ہی کٹ جائیں تو تھامے گا بھلا کونیہ سوچ رہے ہیں کہ عصا دیں تو کسے دیں
بازار میں خوشبو کے خریدار کہاں ہیںیہ پھول ہیں بے رنگ بتا دیں تو کسے دیں
چپ رہنے کی ہر شخص قسم کھائے ہوئے ہےہم زہر بھرا جام بھلا دیں تو کسے دیں
Comments
Post a Comment