راس آیا نہیں تسکین کا ساحل کوئی
پھر مجھے پیاس کہ دریا میں اتارا جائے
مجھ کو ڈر ہے ترے وعدے پہ بھروسہ کر کے
مفت میں یہ دلِ خوش فہم نہ مارا جائے
Comments
Post a Comment